ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نرملا سیتا رمن، اسمرتی ایرانی نے اعظم خان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، دیگر جماعتوں کی خواتین ارکان پارلیمنٹ نے بھی کی مذمت

نرملا سیتا رمن، اسمرتی ایرانی نے اعظم خان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، دیگر جماعتوں کی خواتین ارکان پارلیمنٹ نے بھی کی مذمت

Fri, 26 Jul 2019 22:08:22    S.O. News Service

نئی دہلی،26/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا میں بی جے پی، کانگریس، ترنمول کانگریس، این سی پی سمیت تمام جماعتوں نے چیئرمین رما دیوی کے بارے میں اعظم خاں کے تبصرہ کی مذمت کی اور اسپیکر سے اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔اس معاملے پر وقفہ صفر میں ایوان زیریں میں مختلف جماعتوں کی خواتین ارکان پارلیمنٹ سمیت پارٹیوں کے لیڈروں نے اپنی بات رکھی۔خواتین ممبران پارلیمنٹ نے اسپیکر سے ایسی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جو ایک مثال بن سکے۔وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ یا تو اعظم خاں اس کے لئے معافی مانگیں یا ان کو معطل کر دیا جائے۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے مختلف جماعتوں کے لیڈروں اور ارکان کی بات سننے کے بعد آخر میں کہا کہ وہ تمام جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کرکے اس بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔لوک سبھا رکن اعظم خاں کے طرزعمل پر مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا کہ یہ مردوں سمیت تمام ممبران پارلیمنٹ پر ایک دھبہ ہے۔اس واقعہ سے پورا ایوان شرمسار ہوا ہے۔اگر ایسا واقعہ ایوان کے باہر ہوتا تو پولیس سے تحفظ مانگا جاتا۔انہوں نے کہا کہ آپ ایسا کرکے بچ کر نہیں جا سکتے۔یہ صرف خواتین کا سوال نہیں ہے۔آپ ایسی کارروائی کریں کہ دوبارہ اس طرح کی بات کہنے کی ہمت نہ ہوسکے۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ کل جو واقعہ ہوا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔کوئی خاتون بڑی مشکل سے اس عہدے تک پہنچتی ہے اور اسے اس طرح توہین برداشت کرنا پڑے یہ ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاست باہر آکر کر اور متحد ہوکر اس کی مخالفت کرنا چاہئے اور سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ این سی پی کی سپریا سلے نے کہا کہ کل کے واقعہ کے بعد سر شرم سے جھک گیا ہے۔اگر اس پر کارروائی نہیں کی گئی تو آنے والی نسل معاف نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ (اسپیکر) سخت سے سخت کارروائی کریں۔ ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے کہا کہ یہ ایسا واقعہ ہے جو قابل مذمت ہے۔خاتون کے تئیں کسی طرح کی توہین برداشت نہیں کی جاسکتی ہے۔ کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری نے بھی اس واقعہ کوغلط بتایا اور کہا کہ اس بارے میں پارلیمنٹ کی ضابطہ کمیٹی یا استحقاق خلاف ورزی کمیٹی ہے، وہ بحث کریں۔ڈی ایم کے کی کنموی نے کہا کہ چاہے ہم ادھر بیٹھے ہوں یا ادھر بیٹھے ہوں لیکن کل جو واقعہ پیش آیا اس سے ایوان کی توہین ہوئی ہے۔انہوں نے خواتین ریزرویشن بل کو منظور کرانے کی کوشش کی۔بیجو جنتا دل کے بھ تہری مہتاب نے کہا کہ ایوان میں اسپیکر کو پوری طاقت دی گئی ہے۔آپ چاہے تو مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے بات کر سکتے ہیں۔یہ واقعہ معاف کرنے کے قابل نہیں ہے۔


Share: